کیا آئی ایس آئی واقعی دُنیا کی نمبر ون ایجینسی ہے جانئے اس رپورٹ میں!

 دُنیا کی نمبر ایجینسی کے نام سے مشہور آئی ایس آئی کی اصل حقیقت کیا ہے؟

دُنیا بھر میں جب بھی تمام ممالک کی سیکریٹ ایجینسیوں کا موازنہ ہوا ہے تو سب سے اول نمبر پر پاکستان کی خُفیہ ایجینسی آئی ایس آئی کا نام آتا ہے جس کی وجہ سے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ اپنے ملک کی آرمی خصوصاً آئی ایس آئی سے والہانہ محبت کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کے جس دن پاکستان کی آزادی کے خلاف سازش ہوئی اور رجیم چینج آپریشن ہوا رات کو عدالتیں کُھل گئیں ہر پاکستانی نے دیکھا کے پاکستان کا ہر ادارہ آپریشن رجیم چینج کا حصہ بنا ہوا تھا تب ہر پاکستانی کی اُمید صرف اور صرف پاکستان کی آرمی اور آئی ایس آئی کے ساتھ لگی ہوئی تھی کے پاکستان کو اب بس اُس کی آرمی خصوصاً آئی ایس آئی ہی بچا سکتی ہے اور اُمید کیسے نا ہو آخر کار آئی ایس آئی دُنیا کی نمبر ون ایجینسی تھی، لیکن جب آپریشن رجیم چینج کامیاب ہوا تب ہر پاکستانی کا دل ٹوٹ گیا اور ہر ایک کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ گیا کے اگر واقعی پاکستان کی خُفیہ ایجینسی آئی ایس آئی دُنیا کی نمبر ون ایجینسی ہے تو پھر آخر پاکستان کی آزادی کے خلاف سازش کامیاب کیسے ہوئی؟ کیوں اُسے روکا نا گیا؟ کیا واقعی آئی ایس آئی دُنیا کی نمبر ون ایجینسی ہے یا یہ ایک افواہ ہے؟
 




کوئی رہ تو نہیں گیا جس سے بھیک نا مانگی ہو؟

ہر مُلک سے دُھتکارے جانے کے بعد بھی بھکاری وزیرِ اعظم بعض نا آیا۔

پاکستان کا نام مٹی میں ملانے والے بھکاری وزیرِ اعظم جس بھی مُلک گیا یہی کہا کے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کے ہم بھیک مانگنے آئے ہیں (کیونکہ اُن شکل ہی بھکاریوں جیسی  ہے) لیکن ہم مجبور ہیں، سب سے پہلے آئی ایم ایف نے بھیک دینے سے منع کیا تو سعودی عرب چلے گئے، سعودی عرب نے بھی بھیک نا دی تو دُبئی چلے گئے بھیک مانگنے پر دُبئی نے بھی بھیک دینے سے منع کر دیا پھر تُرکی یاد آیا تو تُرکی دورے دورے گئے پر وہاں بھی رُسوائی ہوئی تو چائنہ کی طرف دیکھا مگر چائنہ نے تو بھکاری وزیرِ اعظم کو اپنے ملک میں ہی آنے سے منع کردیا۔

اگر کوئی غیرت مند انسان ہوتا تو ڈوب کر مر جاتا پر اِن جیسا ڈھیٹ اور بے غیرت اِنسان آج تک نہیں دیکھا، اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کی اِن جیسوں سے حفاظت فرمائے آمین۔


کیا امپورٹڈ حکومت پاکستان کو نچوڑ کر لوٹ رہی ہے؟

مہنگائی ختم کرو کا نعرہ لگا کر جو لانگ مارچ کئے کیا سب جھوٹ تھا؟


جس تیزی کے ساتھ امپورٹڈ حکومت مہنگائی بڑھا رہی ہے اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ سمجھ چُکے ہیں کے یہ شاید اِن کے پاس آخری موقع ہے پاکستان کو لوٹنے کا اور یہ لوگ پاکستان کو جتنا زیادہ ہو سکتا ہے نچوڑ کر لوٹ رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کے پاکستان کی عوام آخر کب تک برداشت کرتی ہے۔

جاگو پاکستانیو جاگ بھی جاؤ کیا تم لوگ سری لنکا بننے کا انتظار کر رہے ہو؟ آخر کب تک سیاستدانوں کا ظلم سہتے رہو گے؟ آخر کب تک ایسی ہی بے حسی کی زندگی گزارو گے اب اگر نا جاگے تو شاید پھر کبھی جاگ نا سکو گے۔

آخر پٹرول بم گرا دیا گیا!

پٹرول مزید 24.3 روپے مہنگا اور ڈیزل 59.16 روپے مزید مہنگا ہو گیا۔

شہریوں کو موقع تک نہ دیا اور آدھے گھنٹے کے قلیل وقت میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافا کر دیا گیا، قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 233.89 روپے اور اور ڈیزل کی نئی قیمت 263.31 روپے ہو گئی ہے۔



پاکستانی عوام تیار ہو جائے، پیٹرول بم پھر تیار۔

 کل کے دن پٹرول بم گرائے جانے کی توقع۔

توقع کی جا رہی ہے کے پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30 روپے اضافا ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کے 27 مئی 2022ء کو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیس تیس روپے فی لٹر اضافا کیا تھا جس کے بعد 3جون 2022ء کو دوبارہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید تیس تیس روپے فی لیٹر قیمت اضافا کیا تھا جس کے بعد یہ تیسری بار ہوگا جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافا کیا جائے گا۔


منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتیں منظور!

 ایف آئی اے آج تک منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شواہد اکھٹے نا کر سکی۔

شواہد کی عدم دستیابی کے بناہ پر اسپیشل سینٹرل عدالت کے جج اعجاز حسن اعوان نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان شہباز شریف اور   حمزہ شہباز کیخلاف کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال، اور رشوت کے الزامات پر ابھی تک کوئی شواہد موجود نہیں ہیں اور کرپشن، رشوت اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات پر ٹرائل میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے مگر تفتیشی افسر نے پولیس ڈائری میں آج تک یہ نہیں لکھا کے انہیں تفتیش کے لیے ملزمان کی حراست درکار ہے۔



شہباز شریف چائنا جانے کے لئے بے تاب، چینی صدر کا صاف انکار.

شہباز شریف کا چائنا کے دورے پر جانے کا خواب چکنا چور!

عمران خان کی حکومت چائنا کے ساتھ مل کر پُرانے منصوبوں کو تو آگے لے جا رہی تھی بلکے نئے اور کرپشن سے پاک منصوبوں پر بھی کام کر رہی تھی جس کی وجہ سے چائنا کو بہتر کام کرنے کا موقع مل رہا تھا مگر جیسے ہی امپورٹڈ حکومت اقتدار میں آئی اِس حکومت نے اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سی پیک اتھارٹی جو کہ عمران خان کی حکومت میں بنائی گئی تھی اُس سی پیک اتھارٹی کو چائنا کو اعتماد میں لئے بغیر ختم کر دیا۔
 
عمران خان کی حکومت کے دوران چائنا کے ساتھ پاکستان کی قربت جتنی بڑھتی جا رہی تھی امپورٹڈ حکومت نے اپنے مفاد کی خاطر چائنا سے اُتنی ہی زیادہ دوری بڑھا دی ہے، اگر یہی حال رہا اور پاکستان میں اِسی طرح امپورٹڈ حُکومتیں  آتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اس خطے میں تنہا اور لا وارث رہ جاۓ گا.

Featured Post

ارب پتی سیکٹر کمانڈرز آئی ایس آئی؟

 ذرائع کیمطابق آئی ایس آئی انٹرنل ونگ کے سیکٹر کمانڈرز پہلے باجوہ اور اب عاصم کی زیر سایہ پی ڈی ایم دور میں ارب پتی بن چکے ہیں اور پیسے ...